تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ بحران: روس نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی

0

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں تیزی سے بگڑتی صورتحال کے درمیان روس نے بحران کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات کے دوران کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں حالات معمول پر لانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے میں سنجیدہ دلچسپی رکھتا ہے۔

ملاقات کے دوران یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی زیر بحث آئی۔ سعودی وزیر خارجہ نے حوثیوں کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنے ملک کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ روسی وزیر خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔

موجودہ بحران کے دوران روس ایک جانب سعودی عرب جیسے اہم عرب ملک کے ساتھ قریبی سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث ماسکو خطے میں مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ نے روس کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق سعودی عرب اور روس خام تیل کی عالمی منڈی میں بھی قریبی تعاون کرتے ہیں، جس سے رسد اور طلب میں توازن برقرار رکھنے کے ساتھ تیل پیدا کرنے والے ممالک اور صارفین کے مفادات کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔

روس کی ثالثی کی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں 2022 کی جنگ بندی کے بعد نسبتاً پُرسکون رہنے والی صورتحال ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی اور مسلح تصادم کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

حالیہ حملوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے۔

حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب میں توانائی کے اہم مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ جازان کی آئل ریفائنری سمیت بعض تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔ حوثیوں نے حالیہ عرصے میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ رہی ہے جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

روس ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ کے مختلف تنازعات کے دوران سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ماسکو کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اس بات کی علامت ہے کہ روس خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لیے اپنا سفارتی کردار مزید فعال کرنا چاہتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.