تازہ ترین

حوثیوں کا حملہ بزدلانہ ہے، سعودی عرب کے ساتھ ہر دم کھڑے ہیں: شہباز شریف

0

اسلام آباد: سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر حوثیوں کے تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 73 شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ حملوں سے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے علاقے متاثر ہوئے، جبکہ شہریوں اور اہم توانائی تنصیبات کی سلامتی پر بھی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہریوں اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے ایسے قابل مذمت حملے نہ صرف شہریوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے کے امن اور سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

حوثیوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے اقتصادی اور فوجی اہداف پر درجنوں میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے داغے گئے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق یہ ایک بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی تھی، جسے یمن پر گزشتہ تین روز کے دوران سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے 120 سے زائد حملوں کے جواب میں کیا گیا۔

یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ یمنی مسلح افواج کی کارروائی میں درجنوں بیلسٹک میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے استعمال کیے گئے۔

دوسری جانب سعودی حکام نے حوثی حملوں کے نتیجے میں شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے شہری آبادی کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

حالیہ حملوں میں اقتصادی اور توانائی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے سے خطے کی سلامتی کے ساتھ ساتھ توانائی کی عالمی منڈیوں پر بھی ممکنہ اثرات کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید فوجی کشیدگی کی زد میں ہے اور ایسے حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست 2026 میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں بھی سعودی عرب پر تازہ حملوں کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

تازہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر خدشات بڑھا دیے ہیں کہ یمن کا طویل عرصے سے جاری تنازع سرحدوں سے باہر پھیل کر خطے میں وسیع تر سلامتی کے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.