تازہ ترین

جلسے کی اجازت نہ دینے پر جماعت اسلامی کا راولپنڈی، اسلام آباد میں دھرنوں کا اعلان

0

جماعت اسلامی نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کردیا، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں دھرنوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

چیئرنگ کراس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت جماعت اسلامی کے احتجاج سے پریشان ہے، اسی وجہ سے لیاقت باغ کو بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ راولپنڈی جارہے ہیں، جہاں تاجروں سے ملاقات کے علاوہ لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کا پروگرام ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے لیاقت باغ کے دروازے بند کر رکھے ہیں، جبکہ کارکن اندر داخل ہونے کے لیے تیار ہیں تاہم انہیں فی الحال روکا جارہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت کے احتجاج پُرامن ہیں اور کارکن کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا تشدد نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت طاقت کے ذریعے احتجاج ختم کرنے کی کوشش کرے گی تو جماعت اسلامی اس کا مقابلہ کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ احتجاج کو طول دے کر جماعت اسلامی کے کارکنوں کو تھکا دیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد، لاہور، کوئٹہ اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے اور یہ سرگرمیاں بتدریج عوامی تحریک کی شکل اختیار کررہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے لیے پہلے رابطہ کیا تھا اور جماعت اسلامی نے کبھی بات چیت سے انکار نہیں کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو مذاکرات کی جلدی نہیں، اگر حکومت واقعی عوامی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو اسے مذاکرات کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کو عوام کو مستقل سہارا دینے کے بجائے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے حکومتی اخراجات کم کرنے اور سرکاری سطح پر غیر ضروری پیٹرول کے استعمال کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھے گی اور لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں دھرنوں سمیت احتجاج کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے بات چیت کرے، تاہم جماعت اسلامی نے واضح کردیا کہ کسی بھی دباؤ کے باوجود احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.