مظفرآباد- مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے آزاد جموں و کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے مظفرآباد میں منعقدہ تقریب میں ان سے حلف لیا۔
نومنتخب وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز، رانا ثناء اللہ اور دیگر پارٹی رہنماؤں کا تعاون اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
افتخار گیلانی نے کہا کہ وہ دن رات محنت کرکے پارٹی قیادت اور عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام اور خصوصاً اسمبلی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ خطے کو آگے لے جانے کی کوششوں میں ان کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کو دنیا کے لیے ایک مثالی خطہ بنانے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بہتر مستقبل فراہم کرنے کے لیے روزگار کے مواقع ضروری ہیں، جبکہ روزگار کا تعلق تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی سے بھی ہے۔
اس سے قبل آزاد کشمیر اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں افتخار گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے۔
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار شاہ غلام قادر اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی برطانیہ سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والے قانون دان ہیں۔ انہوں نے 2011 میں مظفرآباد سے آزاد کشمیر اسمبلی کا انتخاب لڑ کر عملی سیاست میں قدم رکھا اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔
انہوں نے 2016 کے انتخابات میں بھی اپنی نشست برقرار رکھی اور بعد ازاں مسلم لیگ ن کی حکومت میں پانچ سال تک وزیر تعلیم کی ذمہ داریاں انجام دیں۔
افتخار گیلانی نے 2021 اور 2026 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تاہم دونوں مرتبہ کامیاب نہ ہوسکے۔ تاہم 2026 میں انہیں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر آزاد کشمیر اسمبلی میں شامل کیا گیا۔
مسلم لیگ ن نے جمعرات کو افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔
افتخار گیلانی کی نامزدگی کے بعد مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اختلافات بھی سامنے آئے۔ شاہ غلام قادر نے نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ افتخار گیلانی کو ووٹ نہیں دیں گے اور وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اسمبلی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے بھی افتخار گیلانی کی نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن سب سے بڑے پارلیمانی گروپ کے طور پر سامنے آئی تھی۔ 45 براہِ راست نشستوں میں سے 38 پر انتخابات ہوئے، جن میں مسلم لیگ ن نے 25 جبکہ پیپلزپارٹی نے 12 نشستیں حاصل کیں۔
24 اگست کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 46 نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا تھا، جس کے بعد نئی پارلیمانی مدت کا آغاز ہوا۔ 53 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو سب سے بڑی پارلیمانی قوت حاصل ہوئی۔