ایران جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کا مستقبل خطرے میں
لندن: ایران کے ساتھ تقریباً چھ ماہ کی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ ایرانی حملوں کے باعث امریکا کو اپنی فوجی تنصیبات اور اہلکاروں کو نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی فوجیوں اور طیاروں کو ایرانی حملوں کی زد سے دور اسرائیل، اردن اور دیگر مقامات پر منتقل کرنے پر مجبور کیا۔
اب واشنگٹن کو یہ فیصلہ درپیش ہے کہ متاثرہ فوجی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔
ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی حساسیت بھی واضح کردی ہے، خاص طور پر ان تنصیبات کی جو ایران کے ساحلوں کے نسبتاً قریب واقع ہیں۔