امریکا کا ایران کے خلاف نیا معاشی محاذ، مزید پابندیاں عائد
ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ میں مزید شدت آگئی، واشنگٹن نے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایرانی مالیاتی نظام سے منسلک اداروں اور افراد کو نشانہ بنا دیا، جبکہ تہران نے امریکی اقدامات کو ریاستی دہشتگردی قرار دے کر مسترد کردیا۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی باقی ماندہ معاشی شاہ رگوں کو نشانہ بنانا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے یو اے ای میں قائم مصری بینک ’بینک مصر‘ کی برانچوں کی امریکی ڈالر تک رسائی منقطع کرنے کی تجویز دی ہے، کیونکہ اس بینک پر ایران کے ساتھ مالی معاملات برقرار رکھنے کا الزام ہے۔
ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے ’بینک ملی‘ سے منسلک ایک فرد پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکی سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وائٹ ہاؤس کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کا معاشی آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی ادارہ یا ملک ایران کی مدد کرے گا، اسے امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کردیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کی ایران کے خلاف ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی اس مہم کو ریاستی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ڈالر کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔
ایران نے امریکی اقدامات کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کا تسلسل قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطری ہم منصب سے بات چیت کے بعد ’ایکس‘ پر بیان میں کہا کہ سفارتکاری کا راستہ اب بھی ممکن ہے، بشرطیکہ امریکا یہ سمجھ لے کہ دباؤ کی پالیسی کام نہیں کرے گی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو احترام کے ساتھ بات کرنا ہوگی اور اپنے معاہدوں کی پاسداری بھی کرنا ہوگی۔