افغانستان کی ڈگریوں پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، ایچ ای سی نے توثیق روک دی
وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے افغانستان کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی جانے والی اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں سے متعلق اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے ان کی توثیق اور مساوات کا عمل روکنے کی ہدایت کردی ہے۔ یہ فیصلہ 27 اگست 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے، جبکہ پہلے سے حاصل شدہ ڈگریوں کے لیے الگ ٹیسٹ اور جائزے کا طریقہ کار مقرر کیا جائے گا۔
وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کے دستخط سے 27 اگست 2026 کو چیئرمین اعلیٰ تعلیم کمیشن (ایچ ای سی) کو جاری کیے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے افغانستان کے تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ تعلیمی ڈگریوں کی توثیق اور مساوات کے حوالے سے پالیسی فیصلہ کیا ہے۔
پالیسی کے تحت اب افغانستان سے گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کی ڈگریوں کو ایچ ای سی تسلیم نہیں کرے گا۔ نتیجتاً ایسی افغان ڈگری پاکستان بھر میں کسی وفاقی یا صوبائی ادارے میں ملازمت کے لیے قابل قبول نہیں سمجھی جائے گی۔
تاہم افغانستان سے ماضی میں پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے والے افراد کو ایچ ای سی کے باضابطہ ٹیسٹ میکانزم سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد ہر کیس کا الگ بنیاد پر مساوات کے لیے جائزہ لیا جائے گا۔ مقررہ ٹیسٹ اور تشخیص میں کامیابی کی صورت میں امیدوار کو سرکاری ایکویلنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے ایچ ای سی کو ہدایت کی ہے کہ مجوزہ ٹیسٹ میکانزم تیار کرکے ستمبر کے وسط تک وزارت کو ارسال کیا جائے۔ موجودہ ڈگریوں کے لیے ایکویلائزیشن سرٹیفکیٹ کی درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد نئی درخواستیں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔
وزارت نے ایچ ای سی کو فوری عملدرآمد اور نئی پالیسی سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، سرکاری و نجی شعبے کو آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ اس حوالے سے مراسلے کی نقول اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام اور سیکرٹریز تعلیم کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔