تازہ ترین

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر، تین ماہ کے درآمدی اخراجات کے لیے کافی ہے، وزیر خزانہ

0

اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی مزید ایک مناسب مدت کے لیے مؤخر کردی ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی ممکنہ مالی سہولت نہ ملنے کی صورت میں بھی ملک کی بیرونی مالی پوزیشن اطمینان بخش ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سعودی عرب سے حاصل کردہ 3 ارب ڈالر کا قلیل مدتی قرض مناسب مدت کے لیے رول اوور کردیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی نئی مدت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک تعلقات کے پیش نظر اس معاملے پر تشویش کی ضرورت نہیں۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی لیکویڈیٹی سپورٹ سہولت مل جاتی ہے تو یہ خوش آئند ہوگا، بصورت دیگر پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو تقریباً تین ماہ کے درآمدی اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہیں۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی منصوبہ بندی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدی اخراجات کے لیے زرمبادلہ ذخائر کا دورانیہ بڑھا کر چار ماہ کردیا جائے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی میں امریکا سے 10 ارب ڈالر کی لیکویڈیٹی سپورٹ سہولت کی درخواست کی تھی۔ اس وقت حکومت عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تاہم ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان نے عالمی مارکیٹ سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جبکہ اس اجرا کے لیے 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سہولت نہ ملنے کی صورت میں پاکستان یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور ڈالر سے منسلک روپے کے بانڈز کے اجرا کے ذریعے مالی ضروریات پوری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی مالیاتی ادارے ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن پاکستان میں امریکی برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کی معاونت کرسکتے ہیں، جو حقیقی سرمایہ کاری اور قرض کی فراہمی کا ذریعہ ہوگا۔

سعودی قرضوں کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی ایک مالی سال میں قرضوں کی ادائیگیوں کا غیر معمولی دباؤ جمع نہ ہو۔ اسی مقصد کے تحت نئے قرضوں کی مدت اور ادائیگیوں کا شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نئے یورو بانڈ کی مدت ساڑھے پانچ سال رکھی گئی ہے تاکہ اس کی ادائیگی اگلے مالی سال میں منتقل ہو۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈ کی جانب سے دسمبر میں 1.2 ارب ڈالر مالیت کی دو قرض اقساط کی منظوری متوقع ہے۔

دوسری جانب سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک کے قرضوں کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ رواں مالی سال کے بیرونی مالیاتی تقاضے 21.5 ارب ڈالر ہیں، جن میں 17.5 ارب ڈالر اصل قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصل قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار 17.5 ارب ڈالر میں سے 10.5 ارب ڈالر دوطرفہ اور تجارتی قرض دہندگان کی جانب سے رول اوور کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ اصل زر اور سود کی خالص ادائیگیاں 11 ارب ڈالر بنتی ہیں۔ سیکرٹری خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے چار ماہ میں 5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں پہلے ہی کی جاچکی ہیں۔

امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ حکومت قرضوں کی مدت بڑھانے، سودی اخراجات کم کرنے اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کا تناسب گھٹانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق 2023 میں قرضوں کا تناسب 75 فیصد تھا، جو کم ہوکر 68 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ قرضوں میں سالانہ اضافے کی شرح بھی 28 فیصد سے کم ہوکر 7.7 فیصد ہوگئی ہے۔

کمیٹی کے ارکان نے رائے دی کہ قرضوں میں اضافے کی رفتار کم ہونے کی ایک اہم وجہ شرح مبادلہ کا مستحکم رہنا ہے، جس سے قرضوں کے بوجھ میں اضافے کو روکنے میں مدد ملی۔ سیکرٹری خزانہ نے مزید کہا کہ مسلسل تین سال سے بنیادی بجٹ سرپلس برقرار رہنے کے باعث بھی قرضوں میں اضافے کی رفتار محدود رکھنے میں مدد ملی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.