تازہ ترین

افغان طالبان کے خلاف مسلح گروہوں کی سرپرستی کا الزام، پاکستان کا سخت ردعمل

0

پاکستان نے افغانستان میں سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا ہے کہ اسلام آباد سابق افغان شہریوں کو اسلحہ فراہم کرکے طالبان اور ان کے حامی دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دعوؤں کے ذریعے قیاس آرائیوں کو دہرایا جا رہا ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی سرپرستی سے جوڑنا حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے کارروائیاں کرتا ہے اور ان اقدامات کو کسی دوسرے مقصد سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے بھاری قربانیاں دے چکا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا پاکستان کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ الزامات کے ذریعے ان کوششوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بیان میں اقوام متحدہ کی مسلسل نگرانی سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان رپورٹس میں افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق زلمے خلیل زاد کے الزامات افغانستان کی طالبان حکومت کی اس ذمہ داری سے توجہ ہٹاتے ہیں کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، خصوصاً ایسے عناصر کے ذریعے جنہیں پاکستان بھارتی حمایت یافتہ پراکسی قرار دیتا ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا کہ خلیل زاد کی جانب سے غیر مصدقہ الزامات کو فروغ دینا ان کے ذاتی ایجنڈے اور جانبدارانہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی اور علاقائی سلامتی کے لیے اقدامات کا دفاع کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.