اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو خط ارسال کرکے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور آئینی امور پر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق اس ملاقات میں ایسے معاملات پر بات ہوسکتی ہے جنہیں آئینی دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
رانا ثنا اللہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی سے وزیراعظم کی ملاقات کے معاملے میں انا یا ضد کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بحث کہ کون کس کے دفتر یا گھر جائے گا، اصل معاملے کو تبدیل نہیں کرتی، اہم بات یہ ہے کہ دونوں رہنما ملاقات کرکے آئینی امور پر تبادلۂ خیال کریں۔
اس سے قبل محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن کے دفتر آکر ان کے ساتھ چائے پی سکتے ہیں یا انہیں ملاقات کی دعوت دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وزیراعظم انہیں دعوت دیں تو وہ مذاکرات کے لیے اپنی مرضی کے مقام پر جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس جاکر ملاقات کی دعوت دینے پر بھی آمادہ ہیں۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ مذاکرات ایسے ماحول میں نہیں ہوسکتے جہاں سیاسی عمل کا مذاق اڑایا جائے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان، پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے متعلق معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے مناسب ماحول ضروری ہے۔
ایک روز قبل محمود اچکزئی نے کہا تھا کہ سیاسی مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم خود مذاکرات کی دعوت دیں۔ ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اس معاملے پر وزیراعظم سے ملاقات کرچکے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ خیبرپختونخوا میں انتظامی تبدیلیوں اور ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کا معاملہ ہے۔ خبر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی تھی۔ اس اقدام کے تحت انتظامی اختیارات منتخب صوبائی حکومت سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوئے اور ایمرجنسی کے اعلان میں 12 اضلاع شامل کیے گئے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے صوبائی خودمختاری اور جماعت کے انتخابی مینڈیٹ کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزرا نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی اور انتظامی مسائل سے نمٹنے میں ناکامی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پی ٹی آئی نے صوبائی اسمبلی میں اِن ہاؤس تبدیلی یا اسمبلی تحلیل کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا ہے۔
12 اکتوبر کو پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور یہ اقدام صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے۔