ایران پر نیا حملہ خطے میں کشیدگی بڑھائے گا، ترک وزیر خارجہ
ترکیہ نے ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ علاقائی اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام کشیدگی میں مزید اضافے اور تنازع کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو مؤثر راستہ قرار دیا ہے۔
استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے بتایا کہ انہوں نے مصر، پاکستان، سعودی عرب، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ اجلاس میں ایران جنگ کی تازہ صورتحال، سعودی عرب پر حوثی جنگجوؤں کے حملوں اور یوکرین میں روسی جنگ سمیت اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق یہ علاقائی چار ملکی گروپ آر فور اور یورپی ممالک کے گروپ ای تھری کے ساتھ اٹلی کی پہلی مشترکہ ملاقات تھی۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں حاقان فیدان نے کہا کہ شرکا اس بات پر متفق تھے کہ ایران پر ایک اور حملہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اجلاس میں شریک کسی بھی ملک نے ایران کے خلاف مزید فوجی حملے یا مداخلت کی حمایت نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ جمعے کو ہونے والی مشاورت میں ایران جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ممکنہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا، تاہم اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حاقان فیدان کے بیان کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک نے ایران سے متعلق صورتحال میں فوجی تصادم کے بجائے سفارتی کوششوں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔