یومِ اقوام متحدہ: شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پُرامن حل کے عزم کا اعادہ
مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیاں عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ یومِ اقوام متحدہ کے موقع پر انہوں نے عالمی امن، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
24 اکتوبر 2026 کو یومِ اقوام متحدہ کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اقوام متحدہ کے منشور کی 81ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختار مساوات، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، حقِ خودارادیت اور تنازعات کے پُرامن حل کے اصولوں سے وابستہ ہے۔
شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے ان امن اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے بالخصوص پاکستانی امن اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے عالمی امن مشنز میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل رہا ہے اور نیلے ہیلمٹ پہن کر عالمی امن کے لیے کردار ادا کرنے پر فخر کرتا ہے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی خدمات کو بھی سراہا، جو دنیا بھر میں انسانی بحرانوں سے نمٹنے، صحت و تعلیم کے فروغ اور ترقیاتی ضروریات پوری کرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے ان اداروں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کثیرالجہتی تعاون کے اصول پر قائم ہے اور چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی قیادت جاری رکھے۔ وزیراعظم نے تمام رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ سب کے لیے امن اور خوشحالی کے وژن کو حقیقت بنایا جا سکے۔
دوسری جانب وزارتِ خارجہ پاکستان نے اپنے الگ پیغام میں کہا کہ 1947 میں اقوام متحدہ میں شمولیت کے بعد سے پاکستان کی خارجہ پالیسی خودمختاری کے مساوی احترام، عدم مداخلت، حقِ خودارادیت اور تنازعات کے پُرامن حل کے اصولوں پر قائم ہے۔ وزارتِ خارجہ نے پائیدار ترقی، عالمی تعاون اور امن کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔