تازہ ترین

امریکا ایران کشیدگی ، برینٹ خام تیل 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی

0

مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 117.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، تاہم بعد ازاں قیمت کم ہوکر 116.72 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ رواں ماہ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات شامل ہیں۔ سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کی اطلاعات کے علاوہ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سات آئل ٹینکرز پر حملوں یا بارودی سرنگوں کی زد میں آنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

امریکا کی جانب سے خطے میں تعینات بعض سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانے کے اقدام نے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ عالمی منڈی کے شرکا امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ وسیع تر تصادم کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف خام تیل کی ترسیل تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ تیل کی تنصیبات، ریفائنریوں اور برآمدی ٹرمینلز کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب اپریل 2027 کے لیے برینٹ خام تیل کے معاہدوں کی قیمتیں بھی 100 ڈالر فی بیرل سے بلند رہنے کے باعث خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں بھی بلند سطح پر رہ سکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.