ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی گاڑی تلے کچل کر ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں وکلا نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے وکلا کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مظلوم بچوں کے لیے آواز اٹھانا انسانیت کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ ظالموں کے خلاف کھڑے ہونے سے وکلا کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ایسے ملزمان کے خلاف آواز اٹھانا قابلِ تحسین ہے، جبکہ دیگر صارفین نے مطالبہ کیا کہ مقتول بچے کو قرآن و سنت کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
واضح رہے کہ ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا۔ واقعے کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکے کا تعاقب کرنے اور اسے گاڑی سے کچلنے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مقدمے کی شفاف تحقیقات، شواہد کی روشنی میں ذمہ دار کا تعین اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔