پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہوگئی ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ افسوسناک حادثے کے بعد ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں عمارت کی چھت خستہ ہونے اور بچوں کی جانب سے اسکول کے مالک کو اس بارے میں پہلے آگاہ کیے جانے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دیر کالونی میں واقع الخیر اسکول سسٹم کی عمارت کی چھت گرنے سے متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ اسکول کی نچلی عمارت کے سائیڈ والے کلاس روم میں پیش آیا، جہاں تیسری منزل کی چھت نیچے گری۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھت تقریباً 20 سے 25 فٹ کی بلندی پر واقع تھی۔ عمارت کے کمروں کی چھتیں تیار تھیں، تاہم سب سے بالائی منزل کی چھت بارش کے باعث خستہ ہوچکی تھی۔
رپورٹ کے مطابق بچوں نے اسکول کے مالک خان محمد کو چھت کی خراب حالت سے آگاہ کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ مالک نے چھت کو عارضی سہارا دینے کے بعد اس روز بھی بچوں کو اسکول بلایا تھا۔ حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ کمروں کے ساتھ عمارت کے دیگر حصوں کو بھی غیر موزوں قرار دے دیا ہے، جبکہ اسکول کی رجسٹریشن کی تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔
حادثے میں بچوں اور دو خواتین اساتذہ سمیت 33 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔