سعودی عرب پر میزائل حملے، اہم عالمی تقریبات ملتوی
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سعودی عرب میں اہم بین الاقوامی تقریبات متاثر ہونے لگی ہیں۔ بعض ایونٹس ملتوی کیے جا رہے ہیں، جبکہ کچھ کو آن لائن اور بالمشافہ شرکت کے مشترکہ طریقے پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
حوثی گروپ انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے یمن کے صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی فضائیہ کے ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق طیارے کو براہ راست ہدف بنایا گیا اور امکان ہے کہ وہ تباہ ہوگیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
حوثیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ میزائل نے اپنے ہدف کو درست طور پر نشانہ بنایا۔
یہ دعویٰ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق بدھ کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے میزائل تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ ریاض میں گرا، جس سے ایک مقامی شہری زخمی ہوا۔ حکام کے مطابق واقعے میں ایک مکان اور گاڑی کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔
سعودی حکام اس سے قبل ریاض کے اوپر دو میزائل تباہ کیے جانے کی اطلاع بھی دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق میزائلوں کے ملبے سے دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ زخمی ہوئے، جبکہ دارالحکومت میں 15 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ رأس العارہ اور المضاربہ کے علاقوں میں سعودی افواج کے اجتماعات پر تین بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن سے جانی نقصان ہوا اور متعدد فوجی گاڑیاں متاثر ہوئیں۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کھیلوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ سعودی پرو لیگ میں کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم النصر اور الاہلی کے درمیان جمعرات کو ہونے والا میچ ملتوی کردیا گیا ہے۔
آئندہ ہفتے ہونے والا سکس کنگز ٹینس ٹورنامنٹ بھی دسمبر تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ اس ایونٹ میں نوواک جوکووچ اور کارلوس الکاراز سمیت نامور کھلاڑیوں کی شرکت متوقع تھی۔
سعودی عرب کی سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس، جسے ’صحرائی ڈیووس‘ بھی کہا جاتا ہے، تقریباً دو ہفتے بعد مشترکہ انداز میں منعقد کی جائے گی، جس میں شرکا کو بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی سہولت حاصل ہوگی۔ شرکا کی آمد کے لیے متبادل زمینی اور بحری راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ورلڈ پیٹرولیم کانگریس بھی تیل کی صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں کی عدم شرکت سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ کانگریس جمعرات کو اختتام پذیر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے صنعا اور یمن کے دیگر علاقوں پر سعودی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔ حوثی گروپ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے صنعا، تعز، لحج، مأرب، عمران اور جزیرہ میون میں 42 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی عرب کی جانب سے 2,323 حملے کیے جا چکے ہیں۔
حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ جزیرہ میون پر حملے بحری جہاز رانی کے راستوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اس کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی۔
اس کے برعکس بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن فجر یمن‘ کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے خلاف 2,309 کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 1,250 حوثی جنگجوؤں کو میدان جنگ سے ہٹایا گیا، جبکہ 460 سے زائد فوجی گاڑیاں اور عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔