ڈیرہ اسماعیل خان: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ان کے گھر میں نظربند کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے آنے کا انتظار ہے۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس نے انہیں گھر میں نظربند کردیا ہے، جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے اقدامات سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔
دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کرگئے ہیں۔ سہیل آفریدی کی جانب سے سابق صوبائی حکومت کے دور میں لانگ مارچ کو ’’فکسڈ میچ‘‘ قرار دیے جانے پر علی امین گنڈاپور نے سخت ردعمل دیا۔
علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو خبردار کیا کہ ان کے خلاف الزامات کا سلسلہ بند کیا جائے، بصورت دیگر وہ کئی معاملات سامنے لے آئیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس متعلقہ ریکارڈ موجود ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور جماعت کی خاطر اب تک خاموش رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ قیادت کس طرح اور کن شرائط پر اقتدار میں آئی۔ علی امین گنڈاپور نے الزام لگایا کہ سہیل آفریدی کسی ڈیل کے تحت آئے اور اس حوالے سے ان کے پاس ریکارڈ موجود ہے۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ عمران خان کی ملاقاتیں بند کروانے میں سہیل آفریدی کا کردار رہا اور وہ بشریٰ بی بی کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
دریں اثنا، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کے اہم چوکوں، داخلی راستوں اور حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے، جبکہ ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کرنے اور حساس عمارتوں کے باہر رینجرز تعینات کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔