پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، جبکہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے سیکیورٹی اداروں کے درمیان مربوط تعاون جاری رکھا جائے گا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیرصدارت 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے کونسل ارکان کو اپنے متعلقہ محکموں میں اصلاحات تیز کرنے، بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور سرکاری امور میں عملی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے آغاز پر گورنر نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور ہدایت کی کہ کونسل کے ارکان اپنے محکموں کے امور پر بریفنگ حاصل کرنے کے بعد ضروری اقدامات تیزی سے آگے بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محض کمیٹیاں بنانے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ عوام نے اعتماد کیا ہے اور اب کارکردگی کے ذریعے اس اعتماد پر پورا اترنا ضروری ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی حمایت جاری رکھی جائے گی اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ تعاون پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق شورش زدہ علاقوں میں حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والا کوئی اہلکار خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ترقیاتی امور پر بھرپور توجہ دی جائے گی تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ کونسل ارکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی وزارتوں میں اصلاحات کے لیے تجاویز اور مشاورت کو اہمیت دیں اور دوسرے صوبوں میں کامیاب اقدامات سے بھی استفادہ کریں۔
گورنر نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کیے گئے مؤثر اقدامات کو خیبرپختونخوا میں بھی اپنایا جاسکتا ہے۔ صوبے کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ اسے صرف دہشت گردی کے حوالے سے پیش کرنے کے بجائے اس کے پُرامن اور ترقی پسند پہلوؤں کو بھی سامنے لایا جاسکے۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبرپختونخوا قدرتی وسائل اور سیاحت کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ صوبے میں امن قائم ہونے سے سیاحوں اور سرمایہ کاروں کی آمد کے امکانات بڑھیں گے۔
انہوں نے کونسل ارکان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری امور میں تیزی، مؤثر اصلاحات اور عملی اقدامات کے لیے ہر وقت دستیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کمیٹیاں بنا کر دو ماہ بعد معاملات کو بھلا دیا جائے، بلکہ امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے، جو صوبے کے معاملات چلانے میں کردار ادا کرے گی۔