تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج بیک وقت نافذ کرنے پر اتفاق

0

وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج بیک وقت نافذ کرنے پر اتفاقِ رائے ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت دہشت گردی، بیرونی جارحیت اور بدامنی کے تناظر میں صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرے گی، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی اختیارات گورنر خیبرپختونخوا کو منتقل کیے جائیں گے۔ صوبائی حکومت کے آئینی طریقۂ کار سے متعلق تحفظات کو بھی اس اقدام کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جنگ یا داخلی انتشار کی صورتِ حال میں صدرِ مملکت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں۔ آئینی طریقۂ کار کے مطابق ایمرجنسی کے اعلان کو مقررہ مدت کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران پارلیمنٹ کو صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے قانون سازی کے اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں، جبکہ وفاق صوبائی انتظامی اختیارات کے استعمال سے متعلق ہدایات بھی جاری کرسکتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ شریک ہوئے۔ اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے۔

اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.