تازہ ترین

بلوچستان کابینہ کا اہم اجلاس،سیاحت، معدنیات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نئی اصلاحات کی منظوری

0

کوئٹہ: بلوچستان میں تعلیم، صحت، صنعت، معدنی وسائل اور عوامی سہولتوں کے شعبوں میں اصلاحات کے لیے صوبائی کابینہ نے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس میں 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے ہدف، بند صنعتی یونٹس کی بحالی، سرکاری خریداری میں شفافیت اور شہریوں کے لیے سرکاری دستاویزات کا حصول آسان بنانے سمیت مختلف اقدامات منظور کیے گئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں انتظامی نظام بہتر بنانا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں اہم فیصلے

صوبائی کابینہ نے بلوچستان غیر رسمی تعلیم ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی۔ اس کے تحت 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ رسمی اسکولوں میں داخل نہ ہونے والے بچوں کو بھی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔

کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں دوہری تدریسی شفٹ شروع کرنے کی پالیسی بھی منظور کرلی۔ اس اقدام کے تحت موجودہ اسکولوں کی عمارتوں کو شام کے اوقات میں استعمال کرکے مزید طلبہ کے لیے گنجائش پیدا کی جائے گی۔ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے انتظامی بورڈ کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی۔

معدنیات، سیاحت اور صنعتوں کی بحالی

کابینہ نے بلوچستان معدنی ترقیاتی فنڈ کے استعمال کی پالیسی منظور کی، جس کا مقصد معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کو صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔

بلوچستان سیاحتی پالیسی اور ثقافتی پالیسی کے مسودوں کی بھی منظوری دی گئی۔ ان اقدامات کے ذریعے سیاحتی مقامات کی ترقی، مقامی روزگار کے مواقع میں اضافے اور تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ پر توجہ دی جائے گی۔

صنعتی شعبے میں غیر فعال اور بند صنعتی یونٹس کی بحالی کی پالیسی منظور کی گئی، جس کے تحت مالی معاونت اور رعایتوں کے ذریعے صنعتوں کو دوبارہ فعال بنانے اور سرمایہ کاری و روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صحت کے شعبے میں قانون سازی

کابینہ نے بلوچستان ٹیلی میڈیسن اور دور دراز طبی خدمات ایکٹ 2026 اور بلوچستان صحتِ عامہ ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی۔ ٹیلی میڈیسن قانون کا مقصد جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز علاقوں کے شہریوں کو طبی ماہرین کی خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

بلوچستان ادارہ برائے امراضِ گردہ کوئٹہ کے چیف ایگزیکٹو افسر کے طور پر پروفیسر عبدالرازق کی عبوری تعیناتی بھی منظور کی گئی۔ اس آسامی کو بعد میں باقاعدہ مشتہر کرکے نجی شعبے سے ماہر پیشہ ور کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

کابینہ نے امراضِ قلب کے ادارے میں ہاسٹل کی تعمیر کے معاملے پر بھی غور کیا۔

سرکاری خریداری میں شفافیت

صوبائی کابینہ نے بلوچستان سرکاری خریداری قواعد 2014 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کے تحت ورکس، اشیا، خدمات اور کنسلٹنسی کے پانچ لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تمام ٹینڈرز میں الیکٹرانک طریقے سے بولیاں وصول کرنا لازمی ہوگا۔

مجوزہ تبدیلیوں میں چھوٹی خریداری کی حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے، جبکہ کوٹیشن کے ذریعے خریداری کی حد دو لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کی منظوری بھی شامل ہے۔ بولی کے دستاویزات کی فیس ختم کرنے اور بولیوں کی توثیقی مدت سے متعلق قواعد میں تبدیلیوں کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ خریداری کا عمل منسوخ کرنے کے لیے واضح شرائط مقرر کی گئی ہیں، جبکہ منسوخی کی صورت میں بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ پر عوامی اطلاع دینا لازم ہوگا۔ الیکٹرانک خریداری کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اتھارٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی نظام کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

ای ڈومیسائل اور شہری سہولتیں

عوامی سہولت کے لیے کابینہ نے نادرا کے ذریعے ای ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس کے اجرا کی منظوری دے دی۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے تجویز کردہ 200 روپے کی فیس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم نادرا کی مقررہ فیس لاگو ہوگی۔

کابینہ نے سابق ضلع کوئٹہ کی ریونیو حدود میں ضروری ردوبدل اور شمالی و جنوبی کوئٹہ کی حدود ازسرنو متعین کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس اقدام کا مقصد شہری پھیلاؤ کے پیش نظر انتظامی امور اور سرکاری سہولتوں کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔

مزید برآں، بلوچستان لیویز کے انضمام کے بعد پولیس تھانوں کے دائرۂ اختیار کے تعین، اوتھل میں نئے عدالتی حوالات کے قیام اور بلوچستان جیل خانہ جات پالیسی بورڈ کی تشکیل کی منظوری بھی دی گئی۔

خواتین کا تحفظ اور شہری ماحول

خواتین کے حقوق کے حوالے سے بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن ترمیمی ایکٹ 2026 اور بلوچستان پناہ گاہوں اور دارالامان انتظامی کنٹرول ایکٹ 2026 منظور کرلیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین کے لیے محفوظ دارالامان تعمیر کرنے سے متعلق جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

شہری ماحول بہتر بنانے کے لیے ریڈیو پاکستان سریاب روڈ کی اراضی پر عوامی پارک اور شہری جنگلات قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس پر سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت کام ہوگا۔ کابینہ نے ڈیری فارمز کو کوئٹہ سے باہر اغبرگ، سجدی روڈ منتقل کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔

کاروبار، زراعت اور دیگر اقدامات

کابینہ نے آسان کاروبار ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی، جس کا مقصد کاروبار شروع کرنے اور چلانے میں انتظامی پیچیدگیاں کم کرکے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

وفاقی منصوبے لولانگ ڈیم کو صوبائی ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دینے، نئے اعلان شدہ اضلاع میں ضلع کونسلیں قائم کرنے اور کپاس کی مشینی کاشت کے منصوبے کی تخمینہ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے شیڈول سولہ میں تیسرے فریق کے بیمے سے متعلق ترمیم، بلوچستان سروس ٹریبونل ایکٹ 1974 میں ترامیم اور ترقیاتی منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی و مشاہروں سے متعلق پالیسی کی بھی منظوری دی۔

شاہد رند کے مطابق، ان فیصلوں کا مقصد تعلیم، صحت، معاشی ترقی، خواتین کے تحفظ اور سرکاری خدمات کے نظام میں بہتری لانا ہے، تاکہ حکومتی اقدامات کے فوائد صوبے کے عوام تک پہنچ سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.