تازہ ترین

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں معمولی تیزی

0

سنگاپور: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ دیکھا گیا، تاہم خطے سے تیل کی ترسیل میں بہتری اور ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے فیصلے نے رسد سے متعلق خدشات کو محدود رکھا۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 27 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے بعد 100.59 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 30 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 89.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

ماہرین کے مطابق ستمبر کے آخری دنوں میں خطے سے خام تیل کی برآمدات بعض مواقع پر جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ رہیں، جبکہ متبادل راستوں اور رسد کے انتظامات کے باعث ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود تیل کی ترسیل جاری رہی۔

تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے اطراف تیل بردار جہازوں پر دوبارہ حملوں کے واقعات میں اضافے نے عالمی منڈی میں جغرافیائی سیاسی خطرات کو برقرار رکھا ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل، انشورنس، راستوں اور سکیورٹی کے اخراجات بلند سطح پر ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں ایران کے علاوہ خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے 81 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گئی، جس میں سعودی عرب کی برآمدات میں بحالی نے اہم کردار ادا کیا۔

دوسری جانب جی سیون ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر رسد کے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔

تاہم یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی نے خطے سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات برقرار رکھے ہیں۔ یمنی حکومتی فورسز نے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کے اطراف میں پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثیوں نے سعودی عرب میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کے کم ذخائر بھی قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات کو محدود کر رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں مستقبل کی قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.