تازہ ترین

فرانس میں احتجاج کے دوران 15 سالہ طالب علم کے ہاتھ میں دستی بم پھٹ گیا

0

پیرس: فرانس میں اسکولوں کی خراب صورتحال کے خلاف جاری طلبہ احتجاج اس وقت سنگین حادثے میں بدل گیا جب 15 سالہ طالب علم کے ہاتھ میں پولیس کی جانب سے پھینکا گیا دستی بم پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں اس کا ہاتھ ضائع ہوگیا۔

واقعہ شمالی شہر لینس میں پیش آیا، جہاں طالب علم نے مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے پولیس کی جانب سے پھینکی گئی ایک ایسی ڈیوائس اٹھائی جو سڑک پر گرنے کے بعد فوری طور پر نہیں پھٹی تھی۔

پولیس یونین کے ایک ذریعے کے مطابق طالب علم کے ہاتھ میں اٹھاتے ہی یہ ڈیوائس دھماکے سے پھٹ گئی۔

فرانس بھر میں طلبہ ستمبر کے آخر سے اساتذہ کی کمی، زیادہ تعلیمی اوقات، خستہ حال کلاس رومز اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے لیے ناموزوں اسکول عمارتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

وزارت تعلیم کے مطابق پیر کی صبح ملک کے 3 ہزار 700 ہائی اسکولوں میں سے 400 سے زائد جزوی یا مکمل طور پر بند رہے، جبکہ پیرس کے اطراف میں بھی متعدد اسکولوں کے بند رہنے کی توقع تھی۔

لینس میں نقاب پوش مظاہرین نے بس اسٹاپس کو نقصان پہنچایا اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ احتجاج کے دوران مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران اب تک 24 اسکولوں کو نقصان پہنچا یا انہیں نذرآتش کیا جاچکا ہے جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.