اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کیلئے پالیسی سطح کے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور بات چیت 7 اکتوبر تک مکمل ہونے کا قوی امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان جاری مذاکرات میں مختلف اہداف کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جبکہ مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال سے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی جلد متوقع ہے، جس میں قرض پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت اور آئندہ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستانی حکام کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے بیشتر معاشی اہداف حاصل کرلیے گئے ہیں، جبکہ حتمی مذاکرات میں آئی ایم ایف کے 9 ٹیبلز طے کرنے سے متعلق امور پر بات چیت جاری ہے۔
مذاکرات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی اور نجکاری کے عمل میں ہونے والی پیش رفت پر بھی آئی ایم ایف حکام کو بریفنگ دی گئی ہے۔
بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اظہارِ دلچسپی کی درخواستوں سے متعلق پیش رفت سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف مشن پاکستان کیلئے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری کرنے کی سفارش کرے گا، جس میں تقریباً ایک ارب ڈالر توسیعی فنڈ سہولت جبکہ 200 ملین ڈالر لچک و پائیداری سہولت کے تحت ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب آٹو پالیسی سے متعلق معاملات پر بھی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان حتمی بات چیت جاری ہے۔