یمنی فورسز کا باب المندب اور ذوباب پر کنٹرول کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید
صنعا: یمن میں حوثیوں کے خلاف حکومتی فورسز کی بڑی فوجی کارروائی نے جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے آپریشن کے دوران سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی حکومت کی فورسز کے مطابق ’فجر الیمن‘ یا ’یمن ڈان‘ کے نام سے شروع کیے گئے آپریشن کے دوران باب المندب اور ذوباب کے اہم علاقوں میں پیش قدمی کی گئی ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق حکومتی فورسز، سدرن جائنٹس بریگیڈز اور نیشنز شیلڈ فورسز کے ہمراہ باب المندب کے علاقے میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ذوباب ایئرپورٹ حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا ہے جبکہ ذوباب اور المخا کے درمیان اہم راستہ بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی حوثیوں کی جانب سے تردید کی گئی ہے اور میدان جنگ کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے آغاز میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور حوثیوں کے 324 اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
اتحادی فورسز کے مطابق باب المندب آبنائے کو فضائی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ یمنی زمینی فورسز کو مسلسل فضائی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے اس علاقے میں جاری فوجی کارروائی کے اثرات یمن کی جنگ کے علاوہ علاقائی سلامتی اور عالمی بحری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور ریاستی اداروں کی عملداری بحال کرنا ہے، جبکہ حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد یمن میں لڑائی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔