حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے دعوے، سعودی اتحاد کی یمن میں جوابی کارروائی
ریاض: یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان جاری لڑائی مزید شدت اختیار کرگئی ہے، حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف اہم مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن میں حوثی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، آرامکو کی تنصیبات اور جنوبی سعودی عرب کے دیگر مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحاد نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے حدیدہ میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ اتحاد کے مطابق کارروائی میں حوثیوں کے ہتھیاروں کے گودام، بارودی کشتیوں کی تنصیبات اور بحری بارودی سرنگوں کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی اتحاد کے مطابق کارروائی میں تقریباً 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا، تاہم مختلف دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادھر یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا کی جانب پیش قدمی کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی فورسز نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں بھی اہم پیش رفت کے دعوے کیے ہیں۔
یمنی حکومتی فورسز نے موخا اور باب المندب کے اطراف میں متعدد علاقوں کو حوثیوں سے واپس لینے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جبکہ لڑائی کے باعث خطے میں انسانی اور تجارتی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت اور دفاعی تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم فوجی دستوں کے مخصوص کردار اور تعیناتی کی تفصیلات واضح نہیں کی گئی ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے باعث بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اہم تجارتی راستوں کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی اور شہریوں کے متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔