بھارت میں اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان
بھارت میں ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے متعلق تنازع کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا ہے، جبکہ حکمران جماعت اور الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بدھ کو ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ کے عنوان سے احتجاجی پروگراموں کا اعلان کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر نظرثانی کے عمل سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ اصل مسئلہ ’’ووٹوں کی چوری‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ان افراد کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کی کوشش کرے گی جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے مطابق اپوزیشن ارکان 6 اکتوبر کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کریں گے، جبکہ اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ کے تحت احتجاجی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔
یہ تنازع ایک اخباری تحقیقاتی رپورٹ کے بعد شدت اختیار کرگیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق بعض اہم فیصلے تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی منظوری کے بغیر کیے گئے۔
الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تمام فیصلے قانونی دائرہ کار کے مطابق کیے گئے ہیں۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ رپورٹ نے معاملے کا صرف ایک پہلو پیش کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد ایک ہی شخص کے متعدد اندراجات ختم کرنا اور غیر قانونی غیر ملکی تارکینِ وطن کو ووٹر فہرستوں میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔
بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ پہلے ہی سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار کے کردار اور انتخابی فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن اپنے فیصلوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کا دفاع کر رہا ہے۔