تازہ ترین

امریکا اور ایران میں جنگ بندی تجویز پر اہم پیش رفت

0

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے جنگ بندی بحال کرنے کی اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔

ایرانی حکومت کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ردعمل سے ایرانی قیادت کو آگاہ کردیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ تہران کا مؤقف تھا کہ اسے باضابطہ امریکی جواب کا انتظار ہے۔

ایران نے گزشتہ ہفتے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے تہران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت مرحلہ وار بحال کرنے کی تجویز دی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بجائے ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔ قطر سمیت ثالثی کرنے والے فریق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور کسی ممکنہ سمجھوتے کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم معاہدے کے اقدامات کی ترتیب سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے عراق سے اپنے آخری فوجی دستے بھی واپس بلا لیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق عراق سے انخلا 30 ستمبر کو مکمل ہوا، جس کے بعد عراق میں امریکی فوجی موجودگی سے متعلق ایک اہم مرحلہ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔

ایران اور اس کے اتحادی گروہوں نے امریکی فوجی انخلا کو خطے میں امریکی موجودگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ عراق میں امریکی فوجی مشن کے خاتمے کے بعد ملک کی سکیورٹی میں عراقی فورسز کے کردار پر مزید توجہ مرکوز ہونے کا امکان ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب آٹھویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال، پابندیوں، جنگ بندی اور جوہری معاملات سمیت کئی اہم نکات اب بھی ممکنہ سفارتی معاہدے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.