تازہ ترین

پاک چین دوستی کے 75 سال، CPEC 2.0 سے معاشی تعاون بڑھانے کا نیا مرحلہ

0

پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 75 سال مکمل ہوگئے ہیں، دونوں ممالک نے اس طویل عرصے کے دوران سیاسی، معاشی، دفاعی، سفارتی اور عوامی سطح پر تعاون کو وسعت دی ہے، جبکہ اب باہمی تعلقات کے اگلے مرحلے میں معاشی شراکت داری، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو مزید اہمیت دی جارہی ہے۔
چین کی عوامی جمہوریہ کا 77واں قومی دن یکم اکتوبر 2026 کو منایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان اور چین اس سال اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے 21 مئی 1951 کو باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں کے دوران پاک چین تعلقات ایک ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری میں تبدیل ہوئے، جس میں سیاسی روابط، معاشی ترقی، دفاع و سلامتی، انفرااسٹرکچر، تعلیم، ثقافت اور عوامی سطح کے روابط شامل ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان تعاون وقت کے ساتھ انسداد دہشتگردی، میری ٹائم امور، سرحدی انتظام، امن مشنز اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں تک بھی پھیل چکا ہے۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر بھی قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔
سال 2026 میں بھی پاک چین تعلقات میں اعلیٰ سطح کے روابط اور تعاون کا سلسلہ جاری رہا۔ جنوری میں پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا ساتواں دور بیجنگ میں ہوا، جس میں سیاسی و اسٹریٹجک تعاون، دفاع و سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، معیشت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مئی میں صدر شی جن پنگ اور صدر آصف علی زرداری نے پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر مبارکباد کے پیغامات کا تبادلہ کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کیا۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے چینی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں CPEC، تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ترقی، صاف توانائی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔
پاک چین معاشی تعاون میں چین پاکستان اقتصادی راہداری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ CPEC کے ذریعے انفرااسٹرکچر، توانائی اور رابطوں کے شعبوں میں منصوبے مکمل ہونے کے بعد اب تعاون کے اگلے مرحلے میں صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات، جدت اور نجی شعبے کی شمولیت پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔
CPEC 2.0 کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں، برآمدی صنعتوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، زرعی جدت، ہنرمندی کی ترقی اور جامعات و تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے نجی شعبے کی زیادہ فعال شمولیت بھی اہم قرار دی جارہی ہے، جس کے ذریعے پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے چینی سرمایہ کاری، نئی منڈیوں تک رسائی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
پاک چین تعلقات کی اہمیت دوطرفہ تعاون تک محدود نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی رابطوں، امن و سلامتی اور تجارت کے حوالے سے بھی تعاون جاری ہے۔ گوادر اور CPEC کا وسیع تر فریم ورک پاکستان، چین، وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب کے درمیان رابطوں کے وژن کا اہم حصہ ہے۔
پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا سنگِ میل دونوں ممالک کے لیے گزشتہ تعاون کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے امکانات پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں مارکیٹ تک رسائی، سرمایہ کاری، برآمدی صنعت، انسانی وسائل، تعلیم، ٹیکنالوجی اور روزگار کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر توجہ متوقع ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.