تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی پر غور، فیصلہ 4 اکتوبر سے پہلے بھی ہوسکتا ہے، عقیل ملک

0

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی تشویش کے درمیان وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق معاملہ زیرِ غور ہے اور اس پر 4 اکتوبر سے پہلے بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔

ایک خصوصی گفتگو میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد ایمرجنسی کا معاملہ وفاقی کابینہ میں بھی زیرِ بحث آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ایک آئینی اقدام ہے اور موجودہ حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق 4 اکتوبر سے پہلے بھی اس حوالے سے فیصلہ ممکن ہے، تاہم یہ فیصلہ متعلقہ آئینی و حکومتی مراحل کے مطابق ہوگا۔

بیرسٹر عقیل ملک نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی پر مؤثر عملدرآمد، محکمہ انسداد دہشتگردی کی استعداد بڑھانے اور امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاسوں پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر اتحادی جماعتیں صورتحال سے آگاہ ہیں اور ان کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف بھی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو اہمیت دیتے ہیں۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے گورنر بھی صوبے کی صورتحال سے واقف ہیں۔

28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر وزیر مملکت نے کہا کہ اس حوالے سے معاملات جاری ہیں۔ ان کے مطابق اکتوبر میں ہونے والے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں انتظامی یونٹس اور صوبائی معاملات سمیت مختلف امور پر بحث متوقع ہے، جس کے بعد عوامی نمائندے فیصلے کریں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.