اسلام آباد: وزیراعظم کی خصوصی ایندھن ریلیف اسکیم کے تحت مستحق افراد کو سہولت کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور باہمی تعاون مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
اسحاق ڈار نے نیویارک سے واپسی کے بعد منگل کو ایندھن ریلیف اسکیم کی قومی رہبری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں اسکیم پر عملدرآمد، مستحق افراد کی رجسٹریشن، ٹوکن کے اجرا و استعمال، ادائیگیوں اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکیم کے تحت اب تک تقریباً 76 لاکھ صارفین رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جبکہ 77 لاکھ سے زائد ایندھن ٹوکن استعمال کیے جاچکے ہیں۔ ٹوکن کے استعمال کا عمل اب دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے اسکیم پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر عملدرآمد تمام متعلقہ سرکاری اداروں کی مشترکہ اور مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اجلاس میں وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ اطلاعاتی ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات، وزارتِ پٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، اسٹیٹ بینک اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اسکیم پر عملدرآمد کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا۔
اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ مستحق افراد کو سہولت فراہم کرنے اور ملک بھر میں ایندھن ریلیف اسکیم کی خدمات بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
وزیراعظم کی خصوصی ایندھن ریلیف اسکیم 16 ستمبر کی رات ملک بھر میں نافذ کی گئی تھی، اس سے قبل یہ اسکیم اسلام آباد میں آزمائشی بنیادوں پر جاری تھی۔
اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے اہل صارفین کو ایندھن پر مالی ریلیف فراہم کیا جارہا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم علاقوں میں ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن استعمال کرنے کا طریقہ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔