وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مواقع موجود ہیں، تاہم خلیجی بحران نے ملکی معیشت کو ایک ایسے وقت میں دھچکا پہنچایا جب پاکستان تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ ان کے مطابق اگر یہ بحران پیدا نہ ہوتا تو پاکستان بھی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح تیز رفتار ترقی کی جانب بڑھ چکا ہوتا۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار منگل کو لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم کی حیثیت سے تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں پاکستان کے 3 ارب ڈالر مالیت کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈز کی فہرست میں شمولیت بھی ہوئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اپنے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری لائی ہے اور یہ صورتحال مستقبل کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا اور خودمختار قرضوں کے انتظام میں کامیابی کو حکومت کی معاشی اصلاحات، معیشت کو ڈیجیٹل بنانے اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات کے اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خلیجی بحران سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی اور خطے میں امن کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خلیجی بحران سے نئے اسباق سیکھے جائیں، کیونکہ سرمایہ کار محفوظ منڈیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ایسی منڈی ہے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکتا ہے اور سرمایہ کاری باہمی طور پر فائدہ مند، محفوظ اور مستحکم ہوسکتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اقتصادی ٹیم نے معیشت کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں اور پاکستان بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے میدان میں عالمی مالیاتی اداروں کا کردار مزید بڑھایا جاسکے۔
وزیراعظم نے نجکاری کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے عمل میں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ دیگر سرکاری اداروں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی سمت میں کام جاری ہے۔
انہوں نے لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ شوئمر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دینے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اور لندن کے مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔
لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ شوئمر اور سینئر حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کو پاکستان اور لندن کے مالیاتی شعبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔