تازہ ترین

پاکستان افغانستان کشیدگی میں اضافہ، کابل نے پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرلیا

0

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے ساتھ سفارتی تناؤ بھی بڑھ گیا ہے، جہاں کابل نے مبینہ سرحد پار دراندازی کے معاملے پر پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

افغان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی سفارتکار کو طلب کرکے مبینہ سرحد پار نقل و حرکت سے متعلق احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ یہ پیش رفت افغانستان کے صوبوں نورستان اور کنڑ میں حالیہ دنوں کے دوران طالبان حکومت کی فورسز اور مسلح مخالف گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔

افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلح گروہوں نے ڈیورنڈ لائن عبور کی اور انہیں پاکستان کی جانب سے حمایت حاصل تھی۔

دوسری جانب پاکستان مسلسل افغان طالبان حکومت پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی طالبان حکام کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے اور اسے پاکستان میں حملوں میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔

پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ’’مسلح سوچ‘‘ ترک کرکے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار ادا کرے۔

افغانستان کی صورتحال اور امن کے امکانات پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور پرامن بقائے باہمی کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے دوطرفہ معاملات کے حل کے لیے کابل میں کئی اعلیٰ سطحی وفود بھیجے اور استنبول و دوحہ میں مذاکرات میں بھی شرکت کی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں امن سے تجارت اور علاقائی روابط کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جن میں وسطی ایشیائی ممالک کے لیے پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی بھی شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور بعض طبقات کے لیے محدود معاشی مواقع پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو بنیادی حقوق اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم امن کی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا جواب دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.