اسلام آباد: ٹیکس نظام میں شفافیت اور غلط گوشواروں کی نشاندہی کے لیے ایف بی آر نے جانچ پڑتال کے عمل کو جدید اور خودکار بنانے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت ٹیکس کیسز کو خطرے کی بنیاد پر کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔
ایف بی آر کے مطابق نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کردیا گیا ہے، جہاں ٹیکس آڈٹ اور تشخیص کے عمل میں افسر اور ٹیکس دہندہ کے براہِ راست رابطے کو ختم کیا گیا ہے۔
نئے نظام میں ٹیکس کیسز کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ اور خطرے کی بنیاد پر ہوگا، جس کے بعد کیس خودکار طور پر کسی افسر کو تفویض کیا جائے گا۔ ٹیکس دہندہ کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اس کے کیس کی جانچ کون سا افسر کر رہا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ہر کیس تین الگ مراحل سے گزرے گا۔ ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا افسر تشخیص کرے گا جبکہ تیسرا افسر حتمی حکم جاری ہونے سے قبل کام کا جائزہ لے گا۔
ٹیکس اتھارٹی نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا ہے کہ گوشواروں میں درست معلومات درج کریں اور اپنی مالی لین دین کا مکمل
ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھیں۔
ٹیکس اتھارٹی نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا ہے کہ گوشواروں میں درست معلومات درج کریں اور اپنی مالی لین دین کا مکمل ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھیں۔
ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی مقررہ آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 ہے۔