پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی نے اسلام آباد کی طرف مارچ موخر کرنے کے فیصلے کو ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی قرار دے دیا۔
ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ موجودہ حکومت کو تھکا تھکا کر مارنا ہماری پالیسی کا حصہ ہے، اور حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار اور کنٹینرز سڑکوں پر لا کر کھڑے کیے، جب کہ حکمران جماعت کا مبینہ طور پر طاقت کے استعمال کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پرامن جدوجہد کے حامی ہیں اور حکومت کو ضد، انا پرستی اور طاقت کے نشے سے نکل کر سوچنا ہوگا۔ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت ٹی وی چینلز کی بجائے عملی طور پر بات چیت کی پیشکش کرے تو پی ٹی آئی اس کے لیے تیار ہے، کیونکہ بیرسٹر گوہر کا پیش کردہ فارمولا ہی تمام مسائل کا حقیقی حل ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسف زئی نے صوبائی معاملات میں وفاقی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق صوبائی امور میں دخل اندازی نہیں کر سکتا۔ پولیس ایکٹ کے حوالے سے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون سازی صوبے کا صوابدیدی اختیار ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت کے وزراء نے پی ٹی آئی کے اس مؤقف پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ حکومت نے یہ پالیسی فیصلہ کر لیا ہے کہ اب کسی کو بھی احتجاج کے نام پر اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے تحریک انصاف کو خبردار کیا کہ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو 9 مئی کے بعد ملنے والی تمام سہولتیں بھی سلب کر لی جائیں گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بزدل لوگ ہیں جو دھرنوں اور لانگ مارچ کے نام پر میدان سے بھاگ رہے ہیں۔ عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں کی سہولت کاری کر رہی ہے، اور وہاں کے وزیراعلیٰ ایک سیاسی رہنما کی بجائے کسی کالعدم جماعت کے کمانڈر زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ غیر قانونی مائننگ کے ذریعے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔