اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں سیف سٹی کیمروں اور نگرانی کے نظام کے تحفظ کے لیے نیا قانونی اقدام سامنے آیا ہے، جس کے تحت نگرانی کے آلات کو نقصان پہنچانے یا نقصان پہنچانے پر اکسانے والوں کے خلاف مالی کارروائی کی جا سکے گی۔
ایوانِ صدر کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی سفارش پر سیف سٹی کیمروں اور دیگر نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔
نئے قانون کے تحت سیف سٹی کیمروں یا نگرانی کے دیگر آلات کو نقصان پہنچانے، کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے پر اکسانے یا اس کی ترغیب دینے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ کسی ایک کیمرے یا نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق جلسے، جلوس، دھرنے، احتجاج، ہڑتال یا کسی دوسرے اجتماع کے دوران اگر سیف سٹی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو حالات کے مطابق اجتماع کے منتظمین کو بھی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جا سکے گا۔
قانون میں جرمانے یا نقصان کی تلافی کی رقم مقرر کرنے کا اختیار متعلقہ مجاز افسر کو دیا گیا ہے، تاہم فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہوگا۔
فیصلے سے متاثرہ شخص کو 30 دن کے اندر اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ مقررہ جرمانہ یا نقصان کی رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے اراضی کے محصول کے بقایا جات کی طرز پر وصول کیا جا سکے گا۔
حکومت کے مطابق جرمانوں اور نقصان کی تلافی سے حاصل ہونے والی رقم سیف سٹی کیمروں اور نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت یا تبدیلی پر خرچ کی جائے گی۔
اسلام آباد کا سیف سٹی منصوبہ شہری نگرانی اور سکیورٹی کے لیے کیمروں کے نظام پر مشتمل ہے، جبکہ قومی اسمبلی کی ایک حالیہ کمیٹی نے بھی سیف سٹی منصوبے اور کیمروں کی فعالیت سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے کیمروں کو مکمل طور پر فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
یہ قانونی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی سرگرمیوں اور ممکنہ اجتماعات کے حوالے سے سکیورٹی اور امن و امان کے انتظامات پر بھی توجہ مرکوز ہے۔