لاہور: پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی نے واضح کیا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے قابلِ عمل یقین دہانی کرائی جائے تو اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے لانگ مارچ کو ملتان میں عارضی طور پر روکا جاسکتا ہے۔
جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی کے مطابق حکومتی وزرا نے جماعت اسلامی سے لانگ مارچ ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم پارٹی نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال اور سینیٹر رانا ثناء اللہ سمیت حکومتی نمائندے جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر بات کرائی جائے۔
شکیل احمد ترابی کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کم یا ختم کرنے کے حوالے سے واضح یقین دہانی اور ڈیڈ لائن دی جاتی ہے تو ملتان پہنچنے والے لانگ مارچ کو اسی مقام پر مقررہ مدت تک روکے جانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج طویل ہونے کی صورت میں جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے کے قریب آسکتی ہیں، تاہم جماعت اسلامی کی قیادت کے مطابق دونوں جماعتوں کے مطالبات اور سیاسی پوزیشن الگ ہیں۔
حالیہ پیش رفت کے مطابق جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آسکا۔ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ مارچ کا قافلہ ملتان کے راستے آگے بڑھنے کے شیڈول کے تحت روانہ ہوا۔