سعودی عرب، حوثیوں میں معاہدے کیلئے ایران کی ثالثی کی پیشکش
تہران: ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقصد کیلئے ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے مطابق حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔
محسن رضائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں قطر اور پاکستان کے ثالثوں سے مشاورت جاری ہے۔
ایرانی عہدیدار نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے بھی کہا کہ تہران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے اپنی شرائط ثالثوں تک پہنچا دی ہیں۔ ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق تہران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا منتظر ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ موجودہ جنگی صورتحال سے نکلنے کیلئے ان شرائط کو قبول کرنا امریکا کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے امریکی صدر کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران ممکنہ فوجی تصادم کیلئے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت سے علیحدگی کے بعد ایران نے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کی۔ ان کے بقول ایران نے امریکی فوج کی کمزوریوں کا جائزہ لیا ہے اور کسی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی تیاری مزید بہتر بنائی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے حال ہی میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب بحری جہاز شکن میزائل کا تجربہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات کے خلاف پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ کارروائی کی جائے گی۔ یہ بیانات ایرانی عہدیدار کے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
محسن رضائی نے سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے اور ان کے خیال میں حوثی بھی ریاض کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہاں ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں میں حالیہ دنوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔