ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو سپریم کورٹ سے ریلیف، سزائیں معطل
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کی معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت نے دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک ضمانت منظور کی۔
عدالت نے دونوں کی رہائی کے لیے 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے مقرر کیے۔
مقدمے میں اسلام آباد کی سیشن عدالت نے 24 جنوری 2026 کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں دونوں نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو ہائیکورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی، تاہم معاملہ زیر التوا رہا۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہیں عدالتی ڈیکورم کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔