تازہ ترین

باب المندب بند ہوا تو عالمی بحران مزید سنگین ہوجائے گا، قطر

0

دوحہ: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث دنیا کے دو اہم بحری راستوں آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق خدشات شدت اختیار کرگئے ہیں، قطر نے خبردار کیا ہے کہ باب المندب کی بندش کے عالمی سطح پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

قطری وزارت خارجہ کے عہدیدار ابراہیم الہاشمی نے کہا کہ بحیرہ احمر کے جنوبی داخلی راستے باب المندب کو بند کرنا پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا کررہی ہے، اس لیے مزید کسی اہم بحری راستے کی بندش صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دے گی۔

قطر نے اس بحران کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران سے بچنے کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے حالیہ حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی الرٹس جاری کیے۔ بعد ازاں سعودی سول ڈیفنس حکام نے یہ الرٹس واپس لے لیے۔ حالیہ حملوں میں جنوبی سعودی عرب میں 13 شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

خطے میں کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔ متعلقہ حکام کے مطابق واقعے میں کسی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال پر اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں بحری راستے کی سکیورٹی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

سعودی عرب نے حوثی حملوں کے جواب میں سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ حوثیوں کی جانب سے جنوبی سعودی عرب میں کنگ خالد ایئربیس کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اپنی شرائط پوری ہونے تک مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ہونے والی مجوزہ بات چیت بھی ملتوی کردی گئی ہے۔

یمن میں بھی لڑائی جاری ہے جہاں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک یمن میں تقریباً 94 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جس سے طویل جنگ کے انسانی بحران کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.