تازہ ترین

عمران خان نااہل ہیں، وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کر سکتے، شیر افضل مروت

0

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے اہم مؤقف پیش کردیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سہیل آفریدی نااہلی کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو غیر آئینی طریقے سے وزیراعلیٰ بنایا گیا۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کا طریقہ آئین کے آرٹیکل 130 کی ذیلی شق 8 کے خلاف ہے اور انہوں نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا۔ ان کے مطابق آئین کے تحت کسی پبلک آفس ہولڈر سے بیرونی دباؤ کے ذریعے استعفیٰ نہیں لیا جاسکتا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور بھی نہیں کیا تھا، جس کے بعد دوسری مرتبہ ہاتھ سے لکھا گیا استعفیٰ بھیجا گیا۔ شیر افضل مروت کے مطابق اس معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سزا یافتہ اور نااہل ہوچکے ہیں، اس لیے نااہل پارٹی سربراہ وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کرسکتا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر علی امین گنڈاپور کو ہٹانے اور ان سے استعفیٰ لینے کا عمل ہوا۔

ان کے مطابق علی امین گنڈاپور کو تاحال ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا، اس لیے اگر آئینی طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے تو نئی تعیناتی بھی غلط ہوگی۔

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے اور انہیں انہی آئینی شقوں کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق کیس میں فریقین اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو نوٹس جاری کردیے جبکہ سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.