تازہ ترین

میر رضا کیس میں نیا موڑ، جوڈیشل کمیشن نے پولیس سے اہم ریکارڈ طلب کرلیا

0

کراچی: میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے پولیس کی جانب سے اہم ریکارڈ اور شواہد مبینہ طور پر فراہم نہ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی امیر فاروقی سے وضاحت طلب کرلی۔ کمیشن نے تحقیقات کے طریقہ کار اور جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے میں مبینہ کوتاہیوں پر بھی پولیس حکام سے سخت سوالات کیے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران کمیشن نے میر رضا کے دوستوں ہیثم اور رزیق کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ ان سے میر رضا کے ساتھ آخری ملاقاتوں، کمروں اور گاڑیوں کی تلاشی سمیت کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔

رزیق نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے آخری ملاقات کے دوران اسے کہا تھا کہ وہ آخری مرتبہ بل ادا کر رہا ہے، جبکہ ہیثم کے مطابق میر رضا اس سے پہلے بھی لاپتا ہوا تھا تاہم اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہونے کے بعد صورتحال زیادہ تشویشناک ہوگئی تھی۔

کمیشن اس وقت برہم ہوگیا جب پولیس کی جانب سے مکمل بیانات فراہم نہیں کیے گئے۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ پیش کیے گئے بعض ریکارڈ میں اہم معلومات موجود نہیں تھیں اور بظاہر معلومات روکنے کا تاثر ملتا ہے۔ بعد ازاں تحقیقاتی افسر نے مطلوبہ گمشدہ بیانات کمیشن کے سامنے پیش کردیئے۔

کمیشن نے فیروز آباد اور گلستانِ جوہر تھانوں کے روزنامچے بھی سیل کرکے پیش کرنے کا حکم دیا، جبکہ جائے وقوعہ اور پولیس کارروائی سے متعلق دیگر ریکارڈ کی بھی جانچ کی گئی۔

سابق گلستانِ جوہر ایس ایچ او کامران قریشی سے کرائم سین کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر سوالات کیے گئے۔ کمیشن نے اس بات پر اعتراض اٹھایا کہ جائے وقوعہ کو مناسب طور پر محفوظ کیے بغیر لاش کو منتقل کیوں کیا گیا اور کرائم سین یونٹ کو بروقت کیوں نہیں بلایا گیا۔

تحقیقات کے دوران یہ سوال بھی سامنے آیا کہ ابتدائی تلاشی کے تقریباً 48 گھنٹے بعد پستول کا ہولسٹر مبینہ طور پر جائے وقوعہ سے کیسے سامنے آگیا۔

جسٹس عمر سیال نے ایڈیشنل ہوم سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی گمشدہ فرانزک یا کیمیکل رپورٹس کی موجودگی کا جائزہ لیں۔

کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سامیہ اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم احمد کو بھی طلب کرلیا، جبکہ فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او عدیل افضل اور ہیڈ محرر ذیشان کو بھی آئندہ سماعت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔

میر رضا کیس میں تحقیقات پہلے ہی اس وقت اہم رخ اختیار کرچکی تھیں جب دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد پولیس کی ابتدائی تفتیش پر سوالات اٹھے اور ڈی آئی جی امیر فاروقی کی سربراہی میں نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.