تازہ ترین

نئے صوبوں کی بات قبل از وقت ہے، پارلیمنٹ میں کوئی بل موجود نہیں: رانا ثنا اللہ

0

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل سے متعلق کسی بھی مجوزہ قانون سازی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس وقت نئے صوبوں کے قیام سے متعلق نہ کوئی بل موجود ہے اور نہ ہی ایسی کسی آئینی ترمیم پر غور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سندھ اسمبلی کی قرارداد اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے اس معاملے پر دیے گئے بیانات کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل سے متعلق کوئی معاملہ اس وقت حکومت یا پارلیمنٹ کے زیر غور نہیں۔ انہوں نے لندن میں وفاقی اور اتحادی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کو بھی نئے صوبوں کی ممکنہ قانون سازی سے جوڑنے کی تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی تقسیم اور قومی مالیاتی کمیشن کے حصے میں ممکنہ کمی کے خدشات کے حوالے سے قرارداد اور تقاریر سامنے آئیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل ہی موجود نہیں تو اس معاملے پر اس مرحلے پر تشویش کا اظہار قبل از وقت ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مستقبل میں صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے کوئی قانون سازی سامنے آتی ہے تو اس کے لیے ایک واضح جمہوری اور آئینی طریقہ کار موجود ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی اہم معاملے پر پہلے صوبوں سے مشاورت کی جائے گی، اس کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹی میں معاملہ زیر غور آئے گا اور پھر پارلیمنٹ اس کی منظوری یا مخالفت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو اس وقت تشویش کا اظہار کرنا چاہیے جب ایسا کوئی بل یا قرارداد قومی اسمبلی میں پیش ہوتی، لیکن فی الحال ایسی کوئی قانون سازی زیر تیاری نہیں اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھایا جارہا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے لندن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان نئے صوبوں یا کسی خفیہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کی خبروں کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ لندن اپنے بیٹے کے داخلے کے سلسلے میں گئے تھے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے سے وہاں موجود تھے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کی حکومت سے ناراضی سے متعلق خبروں کے بارے میں بھی رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صدر مملکت ناراض نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی ناراضی کی وجہ سے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب سندھ اسمبلی میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے خلاف تقاریر کی جارہی تھیں تو اس وقت محسن نقوی صدر آصف علی زرداری کے ساتھ موجود تھے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صدر زرداری خود متعدد مواقع پر محسن نقوی کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے چکے ہیں، اس لیے دونوں کی ملاقاتوں کو کسی سیاسی اختلاف یا خفیہ قانون سازی سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں اور وزیراعظم ہاؤس میں بھی ان کی وزیراعظم سے غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے۔

وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اتحادی معاملات کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مضبوط اتحاد قائم ہے اور کسی بھی اہم قانون سازی پر اتفاق رائے کے لیے باقاعدہ اتحادی کمیٹی موجود ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے اہم بل پہلے اتحادی کمیٹی کے سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ممکن نہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت یا علم کے بغیر صوبوں سے متعلق کوئی اہم آئینی ترمیم یا قانون سازی پارلیمنٹ میں لائی جائے۔ ان کے بقول حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان ایسے معاملات پر باقاعدہ مشاورت کا طریقہ کار موجود ہے۔

این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت قومی مالیاتی کمیشن کے بجائے صوبائی مالیاتی کمیشن کے معاملے پر بات چیت ضرور جاری ہے، تاہم نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل سے متعلق کوئی بل یا آئینی ترمیم نہ تو زیر بحث ہے اور نہ ہی حکومت کے سامنے موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں مختلف سیاسی آرا اور تجاویز پر بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن کسی سیاسی بحث کو حکومتی قانون سازی سمجھنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں کسی سطح پر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق کوئی تجویز تیار بھی کی جاتی ہے تو اسے آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار سے گزرنا ہوگا اور حتمی منظوری کے لیے متعلقہ فورمز کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

رانا ثنا اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم کے معاملے پر سیاسی بحث تیز ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کے اس وضاحتی مؤقف سے فی الحال یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ حکومت کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق کوئی بل یا آئینی ترمیم اس وقت پارلیمنٹ میں زیر غور نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.