ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں ڈیزل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
واشنگٹن: ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات امریکی عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، جہاں ڈیزل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
امریکی موٹر سواروں کی تنظیم اے اے اے کے مطابق جمعہ کو امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت 5.85 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جو جون 2022 میں قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ ایک سال قبل اسی مقدار کے ڈیزل کی اوسط قیمت تقریباً 3.71 ڈالر فی گیلن تھی۔
رپورٹس کے مطابق فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے بعد خطے میں توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی تیل اور ایندھن کی رسد پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔
ٹرانسپورٹ اور زراعت پر براہ راست اثر
ڈیزل امریکا میں بھاری ٹرکوں، زرعی مشینری، ریل گاڑیوں اور مختلف صنعتی سرگرمیوں کے لیے بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر سامان کی نقل و حمل اور پیداوار کی لاگت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرکوں کے ذریعے دکانوں تک پہنچنے والی اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد مصنوعات کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ خاص طور پر سبزیاں، گوشت اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں کیونکہ انہیں مسلسل نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے۔
عالمی رسد میں رکاوٹیں
ایران جنگ کے باعث خلیج میں تیل اور ایندھن کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں بھی عالمی ڈیزل رسد پر دباؤ بڑھا ہے۔ امریکی ڈیزل کے ذخائر بھی تاریخی طور پر کم سطح پر موجود ہیں، جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں ڈیزل کی قیمت جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 55 فیصد بڑھ چکی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی بلند ہیں، جس کے باعث آنے والے دنوں میں امریکی صارفین کو مزید مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر امریکی پٹرول کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے اور جمعہ کو اس کی قومی اوسط تقریباً 4.15 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔
مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیزل کی بلند قیمتیں طویل عرصے تک برقرار رہیں تو اس کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ نقل و حمل، زراعت، صنعت اور خوردہ بازار تک پھیل سکتے ہیں۔
اس صورتحال میں اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ استعمال کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ امریکی صارفین پہلے ہی مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔