تازہ ترین

ہپناٹزم کیا ہے؟ صدیوں پرانے علم کے حیران کن راز اور عام غلط فہمیاں

0

کچھ سائنسی علوم ایسے ہیں جن کے بارے میں عام لوگوں کے ذہن میں عجیب و غریب غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ہپناٹزم (علمِ تنویم) بھی ایک ایسا ہی عمل ہے جس کا خیال آتے ہی ذہن میں ایک ایسے آدمی کا خاکہ ابھرتا ہے، جو اپنے بڑے بڑے پُراثر ہاتھوں کو آپ کے چہرے کے گرد گھما گھما کر آپ کو اپنے قابو میں کررہا ہے۔ ادھر آپ اس کے زیرِ اثر آئے اور ادھر اس نے آپ سے یا آپ کے ذریعے کوئی غلط کام کرایا۔ ہپناٹزم کی یہ تصویر تھیٹر یا تماشوں کی دین ہے۔ سستے قسم کے شعبدے باز اس قسم کی حرکتیں برسوں سے کرتے چلے آرہے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ کارآمد عم عوام کے لیے باعثِ خوف بن گیا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ان غلط فہمیوں کی وجہ سے ہی آج ہم لوگ اس علم سے پوری طرح مستفیض نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ورنہ مجھ سے پوچھیے تو علم ایسا ہے کہ اسے بذاتِ خود استعمال کر کے یا کسی ماہر عامل کی مدد لے کر آپ اپنی بہت سی بیماریوں اور روزمرہ کی پریشانیوں سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں۔ آج کے تناؤ اور افراتفری سے بھری دنیا میں انسان کی آدھی سے زیادہ پریشانیاں اور بیماریاں ذہنی وجوہات سے پیدا ہوتی ہیں۔ چونکہ ہپناٹزم کا تعلق بھی ذہن سے ہی ہے، اس لیے یہ ان تمام امراض کی جڑ پر حملہ کر کے ان سے راحت دلا سکتا ہے۔ یہاں ایک اور قابل ذکر بات ہے کہ جو حضرات اس پر یقین نہیں رکھتے یا اس سے ڈرتے ہیں وہ بھی انجانے میں اپنے معمولات کے دوران اس کی مدد لیتے ہیں۔ اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کسی چیز یا نظارے کو دیکھ کر مسحور یا مبہوت ہو جانا بھی ہپناٹزم کی ہی ایک قسم ہے۔ یعنی اس منظر نے آپ کے ذہن پر اتنا اثر ڈالا کہ ذہن سوائے اس چیز کے دیگر کسی چیز اور عمل سے لاپروا ہوگیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر زلیخا کا انگلیاں تراش لینا، کسی افسوسناک خبر یا صدمے کے باعث کسی کا ساکت ہو جانا، کسی دلگداز آواز کے سحرمیں کھو جانا، کسی پری پیکر کے جلوے سے مسحور ہو جانا، کسی کی شخصیت یا آواز کے جادو سے متاثر ہونا، پُراثر کام پر سر دھننا، یہ سب ہپناٹزم کی قسمیں ہیں۔ اسی بنیاد پر مقناطیسی شخصیت، جادو بیانی، سحر انگیز حسن، مسحور کن منظر اور اسی قسم کی دیگر اختراعات رائج ہوئی ہیں۔

ہپناٹزم یونانی لفظ ہپناسس سے بنا ہے جس کا مطلب ہے نیند یا خمار۔ انیسویں صدی میں ڈاکٹر جیمز بریڈ نے اس لفظ کو موجودہ معنی میں رائج کیا تھا۔ ڈاکٹر جیمز کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ہپناٹزم کے عمل کو سمجھنے کے لیے بنیادیں فراہم کی ہیں۔ اگرچہ اس لفظ کے معنی نیند کے ہیں لیکن اس عمل کے دوران معمول پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کو نیند نہیں کہا جا سکتا۔ کچھ عرصے بعد خود ڈاکٹر جیمز نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا لیکن جب تک یہ نام کافی رائج اور مقبول ہو چکا تھا۔ اس لیے اس کو یونہی رہنے دیا گیا۔ اگرچہ ہیپناٹزم اپنی موجودہ شکل میں آج سے دو سو سال قبل ہی وجود میں آیا ہے، لیکن یونان میں قدیم کھنڈرات سے برآمد ہونے والی پتھر کی سلیں ان قدیم زبانوں میں ایک ایسے علم کا ذکر کرتی ہیں جو کہ ہیپناٹزم ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی ہر بڑی تہذیب اور دور میں اس قسم کے ثبوت، دستاویزات اور کہانیاں ملتی ہیں جن میں ہپناٹزم کی مدد سے بیماریوں کا علاج یا دیگر آفات سے مقابلے کا ذکر ہے۔

دورِ جدید میں ہیپناٹزم کی شروعات آسٹریا کے ڈاکٹر اینٹون میسمر نے انیسویں صدی کے شروع میں کی۔ میسمر ایک ماہرِ روحانیت تھے۔ ان کے مطابق ہر شخص میں ایک مقناطیسیت ہوتی ہے۔ جو آدمی جتنا اعلیٰ کردار، پاک صاف اور عالم ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ قوت اس میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی مقناطیسی قوت کو وہ اپنے جسم کے مختلف حصوں سے خارج کر کے اپنے معمول کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہاتھ اور آنکھیں اس کام میں خاص طور سے معاون ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر میسمر کا یہ فلسفہ اور طریقۂ کار اس وقت اتنا مقبول ہوا کہ اسے باقاعدہ ایک علم تسلیم کر کے اس کا نام میسمریزم رکھ دیا گیا جو آج بھی کہیں کہیں قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ اس کی بنیاد سائنس و حقائق پر کم اور مفروضوں پر زیادہ تھی اس لیے ٹھوس بنیاد نہ پا سکا اور روحانی حلقوں تک ہی محدود رہا۔ بعد ازاں ڈاکٹر جیمز بریڈ نے اس عمل کو سائنسی پیرائے میں پیش کیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس علم کو ڈاکٹر میسمر نے پوری طرح سمجھ لیا تھا لیکن وہ اس کو سائنسی وجوہات نہ دے سکے جب کہ ڈاکٹر جیمز بریڈ نے سائنس کی روشنی میں اس کی وجوہات سے ہم کو روشناس کیا۔ انیسویں صدی میں جن دیگر حضرات نے اس علم کو فروغ دیا ان میں الیٹسن، چار کوٹ اور فرائڈ قابلِ ذکر ہیں۔ یہ سب اپنے وقت کی قابل ترین ہستیاں اور مفکر تھے۔ ان کی دل چسپی نے عوام کو مجبور کر دیا کہ وہ اس علم کو بھی سنجیدہ اور سائنسی علوم کے زمرے میں شامل کریں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.