تازہ ترین

بھارتی طلبہ کے والدین کو معاوضہ نہ ملنے پر دوبارہ احتجاج کی تیاری

0

بھارت میں طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق احتجاجی معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کرنے لگا ہے، جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مودی حکومت پر اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 5 ستمبر کو دوبارہ احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی برقرار ہے۔

سی جے پی کے ترجمان سورو داس کے مطابق پیپر لیکس کے واقعات سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی جانیں گنوانے والے طلبہ کے والدین کو بھارتی حکومت نے تاحال معاوضہ ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے وعدوں کے باوجود مالی امداد کی فراہمی میں پیش رفت نہیں ہوئی، جس پر احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق حکومت نے احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف درج متعدد ایف آئی آر واپس لینے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، تاہم اس حوالے سے بھی تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ سی جے پی کا الزام ہے کہ احتجاج کے دوران حکومت نے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے نوجوانوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں اور طاقت کا استعمال کیا۔

اس معاملے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی ایک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آچکی ہے، جس میں احتجاج کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کے طاقت کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے گولیاں، شاٹ گنز، آنسو گیس، گرینیڈز اور الیکٹرک شاک سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بورڈ کے چیئرمین آکر پٹیل کے مطابق بھارتی حکام نے مواصلاتی بلیک آؤٹ اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے مظاہرین کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بعد پُرامن احتجاج کو دبانے کے لیے غیرضروری طاقت استعمال کی۔ رپورٹ میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والے بعض ہتھیاروں اور طریقہ کار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال کا معاملہ بھی سامنے آیا، جن کے استعمال سے مقبوضہ کشمیر میں ماضی کے دوران اموات اور بینائی متاثر ہونے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ احتجاجی جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ دینا اور طلبہ کے خلاف مقدمات کے معاملے پر فوری اقدامات کرنا چاہئیں۔

5 ستمبر کو اعلان کردہ احتجاج کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر بھارتی حکومت کے لیے سیاسی اور عوامی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ احتجاجی حلقوں کی جانب سے مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.