اسلام آباد- گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل، جاری اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے نویں اجلاس کی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا، جس میں شہر کی شہری، معاشی، صحت اور صنعتی ترقی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
سیکریٹری پلاننگ کمیشن ڈاکٹر محمد طاہر نور کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی، جبکہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس میں مکمل ہونے والے سی پیک منصوبوں، جاری منصوبوں اور مستقبل کے مجوزہ منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا تاکہ آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں اہم فیصلے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔
اجلاس کو گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان، پاک چین فرینڈشپ ہسپتال اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ ہسپتال کی استعداد 300 بستروں تک بڑھانے کے ساتھ میڈیکل کالج اور نرسنگ کالج کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی۔
اسی طرح گوادر کے ویسٹ بے/پدی زر میں جدید فش لینڈنگ جیٹی، فش ہاربر اور بوٹ میکنگ انڈسٹری کو بھی مستقبل کے سی پیک منصوبوں میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔
اجلاس میں گوادر پورٹ، فری زون، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، پانی کی فراہمی اور ڈیسینیشن پلانٹس سمیت دیگر منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔
حکام کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ اجلاس کے لیے منصوبوں کی تازہ پیش رفت، ترجیحات اور مستقبل کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے تاکہ گوادر میں سی پیک کے تحت ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جاسکے۔