کالعدم تنظیموں سے واپس آنے والی خواتین کی والدین اور بچیوں سے اہم اپیل
کوئٹہ: بلوچستان کے علاقوں تمپ اور بیسمہ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قریبی رشتہ داروں کے ذریعے کالعدم تنظیم کے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا گیا، تاہم بعد میں انہوں نے یہ سرگرمیاں چھوڑ کر قومی دھارے میں واپس آنے اور دیگر نوجوانوں کو ایسے عناصر سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران تمپ کی رہائشی خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ وہ بی ایم سی کالج میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق ان کے شوہر حاصل عرف دودا کے ایک کالعدم تنظیم سے روابط تھے اور انہوں نے پہلے ان کے بھائی کو تنظیم میں شامل کیا، جس کے بعد انہیں بھی تنظیم کے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا گیا۔
خدیجہ پیر جان کے مطابق انہوں نے کچھ عرصے تک تنظیم کے لیے کام کیا، تاہم بعد میں سیکیورٹی فورسز نے انہیں کوئٹہ سے حراست میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے کیے پر افسوس ہے اور وہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ کسی بھی کالعدم تنظیم کے بہکاوے میں آکر ریاست مخالف سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔
پریس کانفرنس میں بیسمہ سے تعلق رکھنے والی صفیہ عبدالخالق نے بھی اپنے بارے میں بتایا کہ ان کے کزن اسرار کے ایک کالعدم تنظیم سے روابط تھے اور انہوں نے انہیں بھی تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ صفیہ کے مطابق بعد ازاں ان کا رابطہ تنظیم کے ایک کمانڈر سے کرایا گیا، جس نے انہیں نیا موبائل فون فراہم کیا اور گاڑی چلانے کی تربیت بھی دی۔
صفیہ عبدالخالق نے دعویٰ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر خودکش حملے کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی، تاہم اس سے قبل وہ سیکیورٹی اداروں کی گرفت میں آگئیں۔
دونوں خواتین نے الزام عائد کیا کہ کالعدم تنظیمیں نوجوان لڑکیوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام، والدین اور بالخصوص نوجوان لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر اور ان کے ذریعے دی جانے والی ترغیبات سے محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔