حوثی حملے، ترکیہ کا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کا اعلان
انقرہ: یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر جاری حملوں کے بعد ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی ممکنہ عسکری ضروریات پوری کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو بعض عسکری، خصوصاً تکنیکی ضروریات پیش آسکتی ہیں جنہیں ترکیہ پورا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔
حاقان فیدان کے مطابق سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر سنگین حملے ہو رہے ہیں اور تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت اس معاملے پر یکجہتی موجود ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں اور اس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ یمن میں جاری لڑائی کے خاتمے کیلئے مختلف تجاویز تمام فریقین تک پہنچائی گئی ہیں، تاہم ان تجاویز کو قبول کرنا متعلقہ فریقین پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحران کے معاشی اثرات اب ناقابل برداشت حد تک پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا حصہ بنانا ناقابل قبول ہے کیونکہ ریاض اس تنازع میں شامل ہونے کی خواہش نہیں رکھتا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی جانب آنے والے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کردیا۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ینبع، طائف، بیش اور فرسان میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی ناکام بنائی گئیں۔ حوثیوں نے ریاض میں حساس اہداف اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔
سعودی عرب پر حملوں کے بعد خطے کے مختلف ممالک کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ مصر کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر جاری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اردن نے بھی سعودی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کیلئے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس معاملے میں اب تک یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ حوثیوں کے حملوں کے جواب میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی فوجی کارروائی پر اسلام آباد میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم پاکستان نے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ اپنے معاہداتی عزم کے مطابق کارروائی کرے گا۔