تازہ ترین

پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن، کہیں مکمل تو کہیں جزوی ہڑتال

0

ملک میں بڑھتی مہنگائی، پیٹرولیم لیوی اور بھاری ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کرگئی، جماعت اسلامی کی کال پر مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے، جس کے باعث متعدد تجارتی مراکز اور مارکیٹیں بند جبکہ بعض علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر ہونے والی ہڑتال کے دوران کراچی کی بیشتر مارکیٹیں بند رہیں، جبکہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی کہیں مکمل اور کہیں جزوی شٹر ڈاؤن کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ جماعت اسلامی کا احتجاج پیٹرولیم لیوی، بڑھتی مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے خلاف جاری دھرنوں اور مظاہروں کا حصہ ہے۔

لاہور میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک جانب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب کارکنوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے معاملے پر حکومتی طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں۔

دوسری جانب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومتی وفد آج منصورہ میں جماعت اسلامی کی قیادت سے مذاکرات کرے گا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کے مطابق حکومتی کمیٹی سہ پہر 3 بجے منصورہ پہنچے گی اور جماعت اسلامی کے مطالبات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتی ہے کیونکہ ملک کو اس وقت امن اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔

ادھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران بعض شہروں میں پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے کراچی، لاڑکانہ، لاہور اور دیگر شہروں میں کارکنوں کی گرفتاریوں اور پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق جماعت اسلامی کے گزشتہ 19 روز سے جاری دھرنے اور احتجاج پرامن رہے ہیں اور کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کے باوجود گرفتاریوں اور تشدد کا راستہ اختیار کرنا مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب کارکنوں کی گرفتاریاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں، جبکہ مطالبات کی منظوری اور گرفتار کارکنوں کی رہائی کو مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.