تازہ ترین

یوم دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، اداروں کو اہم ہدایات جاری

0

اسلام آباد: یومِ دفاع کے موقع پر ممکنہ سائبر خطرات کے تناظر میں ملک کے اہم اداروں کی ڈیجیٹل سکیورٹی مزید سخت کرنے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (پی کے سی ای آر ٹی) نے 5 سے 7 ستمبر تک اداروں کو ہنگامی سائبر سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

پی کے سی ای آر ٹی کی جانب سے جاری الرٹ میں اداروں کو 5 تا 7 ستمبر 2026 تک خصوصی سائبر سکیورٹی کنٹرول روم قائم کرنے، اور سیکٹورل و صوبائی سرٹس کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔

الرٹ میں اہم انفارمیشن انفرااسٹرکچر اداروں کو ممکنہ سائبر خطرات سے نمٹنے کیلیے الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا۔

پی کے سی ای آر ٹی کے مطابق نیشنل سکیورٹی آپریشنز سینٹر (این ایس او سی) یوم دفاع کے دوران قومی سائبر رابطہ مرکز کے طور پر کام کرے گا، 24 گھنٹے سائبر صورتحال کی نگرانی اور اہم معلومات کے تبادلے کیلیے فعال رہے گا۔

الرٹ میں بتایا گیا کہ قومی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو متاثر کرنے والے اہم سائبر واقعات پر مربوط ردعمل میں معاونت فراہم کی جائے گی، نیشنل سرٹ نے اہم نیٹ ورکس، سسٹمز، ویب سائٹس اور ڈیجیٹل سروسز کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کر دی۔

پی کے سی ای آر ٹی نے اہم سائبر واقعات، مشتبہ سرگرمیوں اور ممکنہ سکیورٹی خلاف ورزیوں کی فوری رپورٹ کرنے، اداروں کو سائبر تھریٹ انٹیلی جنس کے تبادلے اور مشترکہ ردعمل کیلیے این ایس او سی سے رابطے، اور تکنیکی ٹیموں کو سائبر واقعے کی صورت میں فوری رابطے اور ہنگامی ردعمل کیلیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔

سرکاری و اہم اداروں کی ویب سائٹس، پورٹلز، اے پی آئی ایس اور ای میل سروسز کے تحفظ کیلیے خصوصی اقدامات کی تجویز ہے۔ اداروں کو ویب ایپ فائروال، ڈی ڈی او ایس پروٹیکشن فعال کرنے اور ویب سسٹمز اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

پی کے سی ای آر ٹی نے انتظامی اکاؤنٹس کے تحفظ کیلیے ملٹی فیکٹر اتھنٹی کیشن اور مضبوط سکیورٹی کنٹرولز نافذ کرنے کا حکم دیا۔

الرٹ میں اداروں کو آپریٹنگ سسٹمز اپ ڈیٹ کرنے، غیر ضروری سروسز بند کرنے، اہم سرورز پر فائر والز اور سائبر حملوں کی نشاندہی اور روک تھام کے نظام فعال رکھنے کی ہدایت جبکہ اہم ڈیٹا بیسز کو براہ راست پبلک آئی پی پر دستیاب نہ رکھنے اور سکیورٹی لاگز کی نگرانی کا حکم دیا گیا۔

اہم اداروں کو ڈیزاسٹر ریکوری سائٹس فوری استعمال کیلیے تیار رکھنے، اہم سسٹمز اور کنفیگریشنز کے آف لائن یا ایئر گیپڈ بیک اپ محفوظ رکھنے، اور ڈیٹا سینٹرز، سکیورٹی آپریشنز سینٹرز کیلیے متبادل انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور پاور بیک اپ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.